رخشندہ نوید ۔۔۔ راضی بہ رضا آپ ہوا آپ کا بیمار

راضی بہ رضا آپ ہوا آپ کا بیمار
کس منہ سے بھلا مانگے دوا آپ کا بیمار

بے یار و مددگار پڑے دیکھا تھا خود کو
کہتے ہوئے لوگوں کو سنا آپ کا بیمار

اک بار ذرا ہاتھ تو اس نبض پہ رکھیے
ہو جائے گا پھر اچھا بھلا آپ کا بیمار

کل رات بھی وحشت نے کہیں کا نہیں چھوڑا
اِمشب بھی اسی چھت پہ رہا آپ کا بیمار

کیا کیا نہیں بھیجیں تھیں طبیبوں نے دوائیں
بیمار مگر پھر بھی رہا آپ کا بیمار

دیوانہ سمجھ کر کوئی پتھر نہ اُٹھالے
اُس وقت سے حد درجہ ڈرا آپ کا بیمار

رخشندہ کے کچھ ناز اُٹھانے کو وہ آئیں
معصوم سا اک بچہ بنا آپ کا بیمار

Related posts

Leave a Comment